|
Vulture population declines in Pakistan |
|
|
|
Vultures feed on dead animals and help keep environment healthy |
|
وائلڈ لائف اِن پوٹھوار(پنوں خان منہاس)1990سے پہلے پوٹھوار میں آسمان پر نظر مارنے سے روزانہ کہیں نہ کہیں آپ کو چیلوں کے ہجوم آسمان کی بلندی پر چکر لگاتے نظر آتے تھے۔چیل کیا ہے؟۔چیل کو گِدھ اور کِرگس بھی کہتے ہیں پنجابی میں اِل اورتاخ۔انگریزی میں والچر کہتے ہیں۔قدرت نے اِس پرندے کوایک انتہائی اہم ذمہ داری سونپی تھی۔ یہ نوکری تھی خاکروب کی یعنی صفائی کی اور صفائی بھی ایسی چیز کی جس کی بدبو سے انسان بیمارہوکر مرجاتا ہے۔گِدھ مُردار جانوروں کو کھا کر ماحول کی صفائی برقرار رکھتا ہے، جانور بیماری سے مرجائے گِدھ اُس مردہ جانور کو کھا جاتا ہے۔ بیماری کا گِدھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔آج کل پاکستان اور بھارت میں ایشیائی گِدھ کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے ۔اس کی وجہ بھارت میں گائے اور بھینس کو درد کے ٹیکے لگانے والی دوائیوں کے اثرات بتائے جاتے ہیں۔۔۔ بھارت میں گائے اور بھینس اپنی عمرسے ہی مرتی ہیں ورنہ اُن کو ذبح کرنا ہندو اور سِکھ مذہب کے خلاف ہے۔ٹیکہ لگی ہوئی گائے مرنے کے بعدبستی سے دور پھینک دی جاتی ہے اور گِدھ اُسے کھا کر پیراسیٹامول کے اثرات سے مرجاتے ہیں۔کیونکہ پیراسیٹامول کے ساتھ پانی پینا ضروری ہوتا ہے۔ دُنیا بھر میں جب بھارت کی اس حرکت کے خلاف احتجاج ہوا تو بھارت نے اپنا الزام پاکستان ائیرفورس پر لگا دیا کہ پاک فضائیہ نے اپنے لڑاکا طیاروں کو پرندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زہریلی دوائیوں سے گِدھ کی نسل کشی شروع کر دی ہے۔پاک فضائیہ نے اِن الزامات کی سختی سے تردید کی اور کچھ عرصہ بعد بھارت بے نقاب ہوگیا ۔گِدھ کی جگہ گیدڑ اور کوا (کاں)قابض ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے ماحول غیر صحت مندانہ ہوگیا ہے۔ بھوکا گیدڑ انسانوں پر حملے کرتا اور بیماریاں پھیلاتا ہے۔ بھوکا ’’کاں‘‘ دوسرے پرندوں کے گھونسلوں پر ڈاکے مار کر قتل و غارت کے ذریعے انڈے بچے کھاکر اپنی تعداد میں اضافہ کر تااور صبح و شام کاں کاں سے ’ کان‘ کھاتا ہے |
|
|
|
|