تلور اور تریل میں فرق جاننا ضروی ہے۔

by Pinoo Khan Minhas

   

وائلڈ لائف اِن پوٹھوار (پنوں خان منہاس) ایک بین القوامی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ میں خوبصورت اور نایاب پرندے ’’تلور‘‘ کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔جس کی بڑی وجہ مڈل ایسٹ اور سندھ کے صحراؤں میں اس کا بیدردی سے شکار ہے۔مڈل ایسٹ میں اس پرندے کے گوشت کو مردانہ طاقت کی بہت ہی اہم خوراک سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی میڈیکل ثبوت نہیں ہے جس سے یہ مفروضہ سچ ثابت ہو۔ تلور کی بہت سی مختلف نسلیں ہیں ۔تلور کو عربی میں حباری یا حبر (ح ب ر ) بھی کہتے ہیں۔ کچھ کتابوں کے مطابق سُرخاب بھی اِسی نا یاب پرندے کو کہتے ہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں باز کے ذریعے اس کا شکار کیا جاتا ہے۔ اس کا وزن دس بارہ کلو کے قریب ہوتا ہے۔تلور اور تریل میں بڑا فرق ہوتا ہے تریل کا رنگ کالا اور وزن تقریباََ ایک سو گرام یا دو چھٹانک کے قریب ہوتا ہے۔ ۔پوٹھوار میں تلور نہیں پایا جاتا ۔البتہ تریل کو ہی تلور سمجھ کر قوتِ باہ کے لیے شکار کیا جاتا ہے۔ لیکن قوتِ باہ میں پرندوں کے مفید ہونے کے فی الحال کوئی ’’سائنٹیفک‘‘ شواہد نہیں ملے۔صرف سمندری شیل فِش ’’اویسٹر‘‘ ہی کے کچھ ایسے شواہد بتائے جاتے ہیں۔

Bacck to pothwar natural life menu >>>