شکاری اور بوہلی کتے پالنے کا شوق      Hunting dogs

 

وائلڈ لائف اِ ن پوٹھوار(پنوں خان منہاس) پوٹھوار میں شکار کے شوقین لوگ خرگوش کے شکار کے لیے شکاری کتے پالتے ہیں اور ان کی دیکھ بحال پر ہزاروں روپے سالانہ خرچ کرتے ہیں’’ بے شک شوق دا کوئی مُل نہیں‘‘لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ جب یہ شوق کسی غریب کو لگ جاتا ہے تو مہنگائی کی وجہ سے بچے بھوکے اور ننگے رہ جاتے ہیں اور شکاری کتا دودھ مکھن ضرو ر کھاتا ہے۔ بوہلی کتے رکھنے والوں کی کہانی کچھ مختلف ہے ۔ دیسی گھی ۔اوجھری۔ تیل کی مالش۔مالش کرنے والے کی تنخواہ اور ڈیڑھ دو لاکھ روپے کی دودھ دینے والی بھینس۔بھینس کے لیے تازہ پٹھے اور کھل گتاوا بھی بوہلی کتے کی دیکھ بحال کے کھاتے میں جاتا ہے۔تیتر اور بٹیر کا شکار کرنے والے کتوں کی حالات بُرے دیکھے گئے ہیں۔ یہ کتا ویسے بھی بڑا بے آرام ہوتا ہے۔ہر وقت ہر جھاڑی میں سر دے کر شکار سونگھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ مال مویشیوں کی دیکھ بحال(راخی) کے لیے گلگت اور کشمیرسے آنے والے خانہ بدوشوں (پہالہے)کے پالتو کتے بھی پوٹھوار کے لوگ پسند کرتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں شکار۔کھیت کی رکھوالی اور مال مویشی کی رکھوالی کے سوا کسی اور مقصد کے لیے کتا پالنا منع ہے۔شکار کے اصول کے لیے بہار شریعت کی جِلد دوم صفحہ ۶۹۵ ملاحظہ فرمائیں۔